2 اگست 2014 - 09:28
لیبیا میں کشیدگی، تشدد کا سلسلہ جاری

ليبيا ميں بڑھتي ہوئي بدامني اور مسافر طياروں کے اغوا کے پيش نظر مصر نے اپني فضائي حدود کي نگراني کو مزيد سخت کرديا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق ليبيا ميں ابتر صورتحال اور کئي طياروں کے اغوا کئے جانے کے بعد مصر نے اپني فضائي حدود کي نگراني اور حفاظتي تدابير بڑھا دي ہيں۔ فارس نيوز ايجنسي کے مطابق مصرکي قومي اير لائن نے کہا ہے کہ فضائي حدود کے تعلق سے حکومت مصر نے الرٹ رہنے کا حکم جاري کيا ہے ۔ يہ فيصلہ ايک ايسے وقت کيا گيا ہے جب ليبيا کے کئ مسافر طياروں کو طرابلس اير پورٹ ہونے والي جھڑپوں کے دوران اغوا کرليا گيا ہے۔

بتايا جاتا ہے قاہرہ ميں جاري ہونے والے احکامات کے بعد مصر کي فضائي حدود سے گزرنے نے والے تمام مسافر طياروں کو غير معمولي ہماھنگي اور پيشگي اجازت ليني ہوگي۔
دوسری جانب لیبیا میں جنرل حفتر کی قیادت میں نیشنل آرمی کے ترجمان نے تاکید کی ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ جنرل خلیفہ حفتر، بنغازی سے چلے گئے ہیں۔
موصولہ خبروں کے مطابق محمد حجازی نے کہا کہ جنرل خلیفہ حفتر بنغازی میں موجود ہیں اور لیبیا کی نیشنل آرمی کی قیادت کررہے ہیں اور وہ ایک بڑی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔
لیبیا کی نیشنل آرمی کے ترجمان نے جنرل حفتر اور لیبیا کی فوج سے وابستہ صاعقہ فورسز کے کمانڈر ونیس بو خمادہ کے درمیان اختلافات کے بارے میں کہا کہ جنرل حفتر کے تمام فوجی کمانڈروں کے ساتھ رابطے ہیں اور آئندہ انجام دی جانے والی کارروائی کے لئے سب سے صلاح مشورے کیئے جارہے ہیں۔
محمد حجازی نے کہا کہ بنغازی میں لیبیا کی نیشنل آرمی کے خلاف حالیہ جھڑپوں میں مختلف ملکوں منجملہ مصر، الجزائر، فلسطین اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے حصہ لیا ہے۔
.......

/169